• Privacy Policy

Daily Urdu Columns

  •   Farah Gogi Bhi Le Lain By Javed Chaudhry
  •   Irani Sadar Ko Hadsa Aur Zehan Mein Uthte Waswasay By Nusrat Javed
  •   Zameen Apne He Bachon Par Tang Hai By Wusat Ullah Khan
  •   Tarbooz Ki Kahani Meri Zubani By Mubashir Saleem
  •   Zindagi Asan Banaye By Amir Khakwani
  •   Ye Aap Ka Bohran Hai, Pakistan Ka Nahi By Irfan Siddiqui
  •   Yaseen Ansari, Azm o Hoslay Ki Dastan By Azhar Hussain Azmi
  •   Heera Mandi Ki Tareekh Kya Kehti Hai? By Mohsin Khalid Mohsin
  •   The Girl With The Needle By Mansoor Nadeem
  •   Shadeed Garmi Aur School Tateelat By Amer Abbas
  •   Green Northern Areas Company Aur Khwab By Amirjan Haqqani
  •   Sakoon Khair Baantne Mein Hai By Azhar Hussain Bhatti
  • Ali Ahmad Dhillon

Ustad Ka Maqam

Ali Ahmad Dhillon Jul 28, 2021 Express 535

’’استاد‘‘ کا مقام

"استاد" علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔

اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی، معاشرے کی فلاح و بہبود، جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جو معاشرے استاد کی اہمیت کو جان چکے ہیں، وہ اُنہیں عزت و تکریم کے ساتھ ساتھ فکر معاشیات سے بھی آزاد کر چکے ہیں، جب کہ ہمارے جیسے معاشرے اُن کے لیے ایسی ایسی مشکلات کھڑی کر رہے ہیں کہ اساتذہ اپنی اصل ذمے داریاں چھوڑ کر فکر معاش اور عزت بچاؤ مہم پر لگ چکے ہیں، ہمارے معاشرے میں بھی اُساتذہ کرام نچلے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہیں۔

پاکستان میں سرکاری سطح پر سب سے زیادہ تنخواہ اور مراعات جیوڈیشری اور بیوروکریسی کو حاصل ہے لیکن جو طبقہ بچوں کو پڑھتا ہے اور ان تربیت کرتا ہے، سرکار اس سے غافل ہے۔ ہمارے اُساتذہ کی تعداد 50لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے، جن میں سے 27لاکھ سرکاری اور 23لاکھ پرائیویٹ اساتذہ ہیں۔ لیکن تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ96فیصد اساتذہ سفید پوشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے اساتذہ کا دنیا بھر کے اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہوں اور دیگر مراعات سے مقابلہ کریں تو ہم کسی رینکنگ میں ہی نہیں آتے۔

کیوں کہ ہم ایک اُستاد کو 3200ڈالر سالانہ اوسطاََ تنخواہ دے رہے ہیں جب کہ سوئٹزرلینڈ میں 1لاکھ دس ہزار ڈالرسالانہ، کینیڈا میں 80ہزارڈالر، جرمنی 70ہزار ڈالر، ہالینڈ65ہزار ڈالر، آسٹریلیا 67ہزار ڈالر، امریکا 63ہزار ڈالر اور ڈنمارک، آسٹریا، آئرلینڈ وغیرہ 60ہزار ڈالر سالانہ تنخواہیں دے رہے ہیں۔ یعنی ہمارے ہاں ایک اُستاد کی اوسطاََ ماہانہ تنخواہ اگر 40ہزار روپے بنتی ہے تو مذکورہ بالا ممالک میں اوسطاََ ماہانہ تنخواہ 7سے 9لاکھ روپے بنتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں اساتذہ پر اتنا کیوں خرچ کرتی ہیں؟ ظاہر ہے وہ جانتی ہیں کہ ٹیچر ہی قوم کی تعمیر نو کرتا ہے، باقی شعبہ جات تو قوم کے لیے سروسز فراہم کرتے ہیں، اس لیے وہ ٹیچر کو دوسرے طبقات سے زیادہ سہولیات فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ سائنسدان پیدا کر سکیں اور تحقیق میں اپنے طلبہ کی مدد کر سکیں۔ جب کہ ہم اساتذہ کی عزت و تکریم کے حوالے سے بھی دنیا بھر کی کسی رینکنگ میں نہیں آتے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اگر کسی استاد کو کسی وجہ سے عدالت میں حاضر ہونا پڑ جائے تو اپنی کرسی سے احتراماََ کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان پر جرمانے وغیرہ، اگر بنتے ہوں تو فوراً ختم کردیے جاتے ہیں کیونکہ وہاں یہ تصور ہی نہیں کہ کوئی استاد جان بوجھ کر رولز کی خلاف ورزی کرسکتا ہے۔ لیکن یہاں کا بھی ایک واقعہ سُن لیں کہ ہمارے اُساتذہ کرام کی " عزت و تکریم "کیسے کی جاتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل پنجاب کی ایک تحصیل کے ڈگری کالج میں انٹرمیڈیٹ کا امتحانی سینٹر قائم کیا گیا تھا۔ متعلقہ تحصیل کی خاتون اسسٹنٹ کمشنر امتحانی سینٹر کے دورے پرگئیں، محترمہ کالج کا دورہ کرنے کے بعد پرنسپل آفس میں داخل ہوئیں اور پرنسپل کی کرسی پر براجمان ہوکر حاضری رجسٹر لانے کا طلب کیا، کالج پرنسپل کھڑے رہے جب کہ سرکاری کی انتظامی افسر صاحبہ پرنسپل کی کرسی پر بیٹھی پاؤں ہلا کر منتظربا رجسٹر ہیں، کالج کا سارا اسٹاف بھی موجود تھا۔ لیکن ایک پروفیسر صاحب نے جرات کی اور بولے "آپ کو جو ریکارڈ اور معلومات چاہئیں، دینے کو تیار ہوں لیکن یہ کرسی پرنسپل کی ہے، اس پر نہ بیٹھیے۔ یہ کرسی آپ کی نہیں، دوسری کرسی پر بیٹھیے۔" اسسٹنٹ کمشنر اس بات پر سیخ پا ہوگئیں اور پولیس بلا کر پروفیسر صاحب کو حوالات کی سیر کرا دی۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی چند ماہ قبل ہم نے دیکھا کہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں اساتذہ جو 11دن سے سخت سردی میں بیٹھے تھے، ان پر شیلنگ وغیرہ کی گئی، یہ اساتذہ بھلا کون تھے؟ یہ وہ اساتذہ تھے جنھیں حکومت 8ہزار روپے ماہانہ دے رہی تھی، اور گزشتہ 7ماہ سے وہ بھی بند کر دی گئی تھی۔ یعنی یہ اساتذہ شام کی شفٹ میں بیسک ایجوکیشن پروگرام کے تحت بچوں کو تعلیم دے رہے تھے۔ جسے حکومت نے بغیر بتائے بند کر دیا اور محض 8دس ہزار روپے ماہانہ تنخواہوں پر رکھے گئے اُساتذہ پر بھی قدغن لگا دی گئی۔

پھر آپ پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کو دیکھ لیں۔ 90فیصد اسکولوں میں اساتذہ ماہانہ 5ہزار سے 15ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں، یہاں یہ بات حکومتیں ضرور بتائیں کہ ایک استاد آخر کیسے 10، 000 روپے یا 20، یا 40ہزار روپے میں گزارہ کرے اور اپنے خاندان کی دال روٹی کا بندوبست کرے؟ آپ آج کے دور میں 50ہزار روپے ماہانہ سے گھر کا کچن چلا کر دکھا دیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کا کچن اتنے کم پیسوں سے چل سکے۔ بقول شاعر

ہم حقیقت ہیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب

ہاں اگر حرف غلط ہیں تو مٹا دو ہم کو

بہرکیف ایک انگریزی مقولہ ہے: A Teacher is a Beacon that lights the path of a Child (استاد وہ مینارہ نور ہے جوبچے کی راہ کو "علم و ہدایت سے " منور کر دیتا ہے)، پھر حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ ہر وہ شخص میرا استاد ہے جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا ہو۔ اگر ہم مغربی اقوام کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو اُستاد کو معاشی مشکلات کے جھنجٹ سے نکالا جائے، اُسے معاشرے کا ایک غیر اہم حصہ بنانے کے بجائے مغربی اقوام کی طرح اُسے عزت دی جائے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر اس معاشرے میں اندھیرا مزید گہرا ہوتا جائے گا۔

Ilmlelo.com

Enjoy The Applications

ustad ka ehtram essay in urdu with headings | استاد کا احترام پر ایک مضمون

Today we write a ustad ka ehtram essay in urdu with short introduction why we need to respect of our ustad ( also called teachers)?

Teachers are a special breed of people. They are selfless, and patient, and have an innate desire to help others. They spend their lives molding young minds and shaping the future. Despite all this, they are often taken for granted and not given the respect they deserve. In some cultures, teachers are considered to be next to God. In others, they are seen as nothing more than babysitters. This is why we need to respect our teachers. They have dedicated their lives to helping us grow and learn. They are the ones who prepare us for the future. Likewise, they are the unsung heroes of society.

ustad ka ehtram essay in urdu with pdf | استاد کا احترام پر ایک مضمون

speech in urdu ustad ka maqam

Teachers are often not given the respect they deserve. In many societies, teachers are not seen as professionals and are paid relatively low salaries. This is even though teachers play a vital role in shaping the future of young people. In Islam, teachers are given a special status. The word ‘ ustad ’ (teacher) is derived from the Arabic word ‘ustadh’, which means ‘one who gives. The word ‘ustadh’ is also used to refer to a highly qualified scholar or authority on a particular subject. As Muslims, we are taught to give respect to our teachers and elders.

3 Reasons to respect of our Ustad

Here are 3 reasons why we need to respect our teachers.

  • Their education helps us to grow
  • You are guided by them
  • As elders, they are more knowledgeable than us

ان کی تعلیم ہماری ترقی میں مدد کرتی ہے۔

یہ ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔

بزرگ ہونے کے ناطے وہ ہم سے زیادہ علم والے ہیں۔

They play a vital role in our lives. They are our friends and philosopher. Therefore, it is our duty to respect them with all our heart and help them in every way we can. I hope you enjoy reading this mazmoon ustad ka ehtram for class 5,1,6,3,12 and others with headings.

You can also read MERA SCHOOL ESSAY IN URDU |

Related Posts

My favourite game cricket essay in urdu | میرا پسندیدہ کھیل پر ایک مضمون.

December 7, 2023

waldain ka ehtram essay in urdu | والدین کا احترام مضمون اردو

Essay on hockey in pakistan in urdu | اردو میں پاکستان میں ہاکی پر مضمون.

' src=

About Admin

Leave a reply cancel reply.

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

You are using an outdated browser. Please upgrade your browser to improve your experience.

  • Pamphlet Library

The High Rank of Women In Islam

Islam Me Aurat Ka Maqam

Copyright © by I.T Department of Dawat-e-Islami.

Urdu Notes

Ustad ka Ehtram Essay

Ustad ka Ehtram Essay 1

speech in urdu ustad ka maqam

  • Urdu Fonts For Pixellab
  • Best Urdu Fonts
  • Urdu in MS Word
  • Kinemaster Urdu Fonts
  • Quranic Fonts
  • Bismillah Font
  • Quranic Verses Font
  • Islamic Symbol Font
  • Pixellab PLP Files

Urdu Speech on Teacher Respect | Ustad Ka Ehtram Speech

موضوع: استاد کا احترام.

اے میرے عظیم ساتھیو! اور مستقبل کے روشن ستارو! السلام علیکم و رحمتہ اللہ! اس دنیا میں قدرت نے ماں اور باپ کو ایک عظیم نعمت کے طور پر پیدا کیا ہے۔اگر ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت نہ ہوتی تو کوئی بچہ سن بلوغ اور سن شعور کو باحسن و خوبی نہ پہنچ سکتا۔دُنیا کے ہر بچے پر والدین کا احسان ہے کہ وہ کمال محبت کے ساتھ بچے کو پروان چڑھاتے ہیں۔لیکن دنیا میں ایک اور شخصیت بھی ہے۔جس کا احسان ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ ہستی عظیم استاد کی ہے۔ماں باپ ہمارے جسم کی پرورش کرتے ہیں جبکہ روح کی پرورش ہمارے استاد کرتے ہیں۔ہمیں علم و دانش عطا کرتے ہیں۔اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیتیں بخشتے ہیں۔

حضرات باوقار!

ہمارے آقا و مولا حضرت مصطفیٰﷺ نے ارشاد فرمایا:

انما بعثت معلماً

یعنی میں ایک معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے جہاں مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے احسان جتایا ہے کہ میں نے ایک رسول بھیجا وہاں آپ کی صفت بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔

میرے دوستو!

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ارشاد فرماتے ہیں جب ہمیں نبی اکرم ﷺ تعلیم دیتے تھے۔تو ہم آپ کے سامنے اس طرح ح خاموش بیٹھے ہوتے تھے۔جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں گویا ہم ان کی بات کو انتہائی غور سے سنتے۔گویا ہمیں یہ سبق ہے کہ جب ہمارے استاد ہمیں تعلیم دیتے ہیں تو ان کے ارشادات غور سے سنیں۔انہیں سمجھنے کی کوشش کریں اور یاد کرنے کا عزم لے کر چھٹی ہونے پر رخصت ہوں۔استاد صاحبان کا احترام کریں دل سے عزت کریں۔ان کاحکم مانیں۔جو شخص تعلیم سے محروم ہے۔اس سے تعلیم کی قدر پوچھو سارا دن گرمی و سردی میں محنت و مزدوری کرتا ہے۔نہ گفتگو کا سلیقہ ہے نہ پہننے اور اوڑھنے کا۔نہ آداب محفل جانتا ہے۔اور نہ حسن معاشرت،یہ سب نعمتیں استاد کے صدقے میں ملتی ہیں۔اس لئے ان نعمتوں کے شکرئیے میں بھی اور ویسے اپنے مقدس پیشے کے اعتبار سے بھی استاد ایک عظیم ہستی ہے میرے دل کی دھڑکنیں عقیدت و احترام سے حضرات اساتذہ کو سلام کرتی ہیں۔

اے صدر محترم اور ارباب ذیشان!

فارسی کا مقولہ ہے ” ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد” یعنی جو خدمت کرتا ہے اسی کی خدمت کی جاتی ہے۔اگر قوم چاہتی ہے اور مستقبل کے روشن ستارے اپنی چمک و دمک میں مزید رعنائیاں دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا صرف ایک راستہ ہے کہ ان عقل و ہوش دینے والوں کی عزت و تکریم کا سہرا سجالیں۔کل طلوع ہونے والا سورج اگر استاد کی تکریم کرنے والوں سے اجازت لے کر طلوع نہ ہو تو پھر کہنا۔

تم اپنے خیالوں کو مجھے سونپ کے دیکھو ہر شخص امانت میں خیانت نہیں کرتا

Some Useful Articles

Qayam e pakistan speech in urdu – 23 march & 14 august speech, 23 march pakistan day speech in urdu written, farewell speech for students by teacher in urdu, alwidai speech in urdu for matric students.

speech in urdu ustad ka maqam

About Shoaib Akram

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

Name * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

Email * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

Subscribe to get the latest updates

Dayar-e-Ishq Mein Apna Muqam Paida Kar Allama Iqbal Lyrics In Urdu and Roman Urdu

Dayar-e-Ishq Mein Apna Muqam Paida Kar Allama Iqbal Lyrics In Urdu and Roman Urdu

دیارِ عشق مِیں اپنا مقام پیدا کر

Niya Zamana Naye Subh-o-Sham Paida Kar.

Leave a Comment Cancel reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

Iman Islam – Islamic Education

Ustad ka Ehtram

Share this:.

  • Click to share on Twitter (Opens in new window)
  • Click to share on Pinterest (Opens in new window)
  • Click to share on Tumblr (Opens in new window)
  • Click to share on Reddit (Opens in new window)
  • Click to share on WhatsApp (Opens in new window)
  • Click to share on LinkedIn (Opens in new window)
  • Click to share on Facebook (Opens in new window)
  • Click to print (Opens in new window)
  • Click to share on Telegram (Opens in new window)
  • Click to share on Pocket (Opens in new window)
  • Click to email a link to a friend (Opens in new window)
  • Click to share on Mastodon (Opens in new window)
  • Click to share on Nextdoor (Opens in new window)

Must Read Posts:

  • Waldain Ka Ehtram
  • Ustad Ki Azmat
  • Bandon Kay Haqooq
  • Maa Baap Kay Haqooq
  • It Is Recommended To Wait And Not Eat Food While It Is Still Very Hot
  • October 26, 2019
  • No Comments
  • Ehtram , Haqooq , Haqooq Ul Ibad , Mualim , Ustad , Waldain

Related posts

Leave a reply cancel reply.

Waldain ki Izzat/ Ehtaram Essay in Urdu

Best urdu speech ever in written form, urdu speech on hope and motivation, garmi ka mausam essay in urdu.

URDU-SPEECHES-WEBSITE-LOGO-1

Urdu Speeches

Find the best Urdu Speeches Online

Waldain ki Izzat Ehtaram Essay in Urdu

Namaz Essay in Urdu

Warzish ke Faiday Essay in Urdu

Warzish ke Faiday Essay in Urdu

Ustad ka ehtaram speech in urdu.

ustad-ka-ehtaram-urdu-speech

Ustad ka Ehtaram Speech in Urdu in Written Form

Assalam-o-Alaikum Friends. This Article contains Speech on “ Ustad ka ehtaram Speech in Urdu ” 2024 in Written Form. You can read the article and copy it as well. We have updated the PDF and the Video of this script at the end

GO TO VIDEO

_بنیادی حوالے کے طور پر “استاد کا احترام” یہ عنوان ایک اہم اور گہرا موضوع ہے جو ہمارے معاشرتی نظام کی بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ یہ مضمون استادوں اور تعلیمی عناصر کے تعلقات میں عظیمت کے اصولات پر مبنی ہے۔

Ustad ka Ehtaram Importance in Education | استاد کا اہترام: تعلیمی تربیت کا ایک اہم حصہ

تعلیم کی قدر

استاد کا اہترام کا مطلب ہے تعلیم کی قدر کرنا اور اسے مقدس جواہر ماننا۔ ہماری فہرست میں یہ ہے کہ ہمیں اپنے استادوں کی محنت اور سیکھائی گئی باتوں کی قدر کرنی چاہئے۔

تعلیمی تعلقات میں عظمت

استاد کا اہترام تعلیمی تعلقات میں عظمت کی بنیاد پر ہے۔ یہ وہ جاذبہ ہے جو طلباء اور استاد ایک دوسرے کے درمیان مشاہدے میں پیدا ہوتا ہے اور تعلیمی تجربات کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

استاد کا اہترام اور فرہنگ

ادب اور تہذیب

استاد کا اہترام فرہنگی نظام میں ادب اور تہذیب کے اصولات کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ یہ طلباء کو نہ صرف تعلیمی بلکہ اخلاقی حوالے سے بھی سکون دیتا ہے۔

تعلیمی تحفظ اور معاشرتی رفتار

استاد کا اہترام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیمی تحفظ کو کس طرح مضبوطی سے برقرار رکھا جا سکتا ہے اور اس سے ہماری معاشرتی رفتار میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔

Conclusion| اختتامی خیال: اہترام کا پیغام

استاد کا اہترام ہمارے معاشرتی نظام کی تربیتی اصولات کا حصہ ہے جو ہمیں سچائی اور بہترین فہم دیتا ہے۔ یہ اہترام ہمیں نہ صرف تعلیمی بلکہ اخلاقی سلسلے میں بھی مضبوط بناتا ہے اور ہمیں معاشرتی تربیت میں بہتریکے ساتھ کلاس کے علاوہ بھی ہوتا ہے، جو شخصی اور فکری ترقی کے بنیادی حصے کو چھوڑتا ہے۔

طالب علم اور استاد کا تعلق یکساں اور دلچسپ ہوتا ہے۔ استاد صرف علم نہیں بلکہ قیمتی اصولوں، اخلاقیات، اور ذمہ داری کے بھی سفر کا راہنما ہوتا ہے۔ یہ تعلق طلباء کی زندگیوں پر دائمی اثر ڈالتا ہے، اُن کے کردار کو شکل دینے اور اُن کی فیصلے پر اثر ڈالتا ہے۔

استاد کا احترام صرف ثقافتی قاعدہ نہیں، بلکہ تعلیمی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ ہم جو استادوں کے لئے احترام ظاہر کرتے ہیں، یہ اُن کو ہماری شکریہ کا اظہار ہے جو اُنہوں نے ہمیں بخشا ہے، جو دانائی ہو ہوئی ہے، اور جو اُنہوں نے مصروف ہوکر ہمیں تعلیم و تربیت فراہم کرنے کا کام کیا ہے۔ یہ ہمارے اُستاد کے محنتی کاوشوں کا اعتراف ہے جو سیکھنے، بڑھنے، اور خود کو دریافت کے ماحول کی تشکیل دینے میں وقت اور توانائی خرچ کرتے ہیں۔

استاد، اکثر چھپے ہوئے ہیروز، تعلیم کی نوبل میں اپنی زندگی فراہم کرتے ہیں۔ وہ علم کے دیس میں ہوتے ہیں، طلباء کو کامیابی حاصل ہونے تک رہنمائی فراہم کرنے کے لئے خود کو وقف کرتے ہیں۔ ایک محترم استاد کا اثر دوررس اور زندگی کے مختلف پہلوؤں میں پہنچتا ہے۔

مزید، استاد کے لئے احترام دو طرفہ ہے۔ جیسا کہ طلباء اپنے استادوں کا احترام کرتے ہیں، ویسا ہی استاد بھی اپنے طلباء کی سنگینی اور حوصلے کو قدر کرتے ہیں۔ طالب علم اور استاد کا یہ متبادل تعلق علم، متبادل احترام، اور ترقی کی خوبصورت رقص ہے۔

ایک دنیا جو تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، استادیں ایک مستقر سہارا ہیں، استقبال اور راہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ استاد کا احترام تعلیمی مناظر و فنون کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میں مزید اہم ہوتا ہے۔ جبکہ ٹولزحاصل ہوتی ہے۔

اختتامی طور پر، استاد کا اہترام ہمیں ہمارے تعلیمی سفر میں راہنمائی فراہم کرتا ہے اور ہمیں معاشرتی اقدار کی راہوں میں ہدایت دیتا ہے۔ یہ ایک قدرتی اور اہم جزو ہے جو ہمیں معاشرتی بنیادوں میں استواری فراہم کرتا ہے۔

Ustad ka Ehtaram Urdu Poetry

بہت ہی پرانے ہیں وہ لمحے، جب میرے دل کو چھوا استاد کا احترام، ہے ہر راہ ہے وہ بھرا

چہرے پہ مسکان لانے والا، ہر زمانے میں استاد کا احترام، روشن ہے ہر زیانے میں

تعلیم کی راہوں میں، ہے وہ راہنمائی استاد کا احترام، ہے ہر حکایت میں زندگی

جو حکمت بانٹی ہے، ہر سوچ میں چھپی استاد کا احترام، ہے ہر چمکتی تقدیر میں

علم کی بہت بلندیوں پر، ہے اسکا حکم استاد کا احترام، ہے ہر ستارے کی دھمک

روشن ہوا ہے ہر دل، اس احترام کی روشنی میں استاد کا احترام، ہے ہر خوابوں کی تقدیر میں

تعلیم کی شمعوں سے ہوا ہے یہ جہاں چمکتا استاد کا احترام، ہے ہر زخموں کو بھرتا

سکھاتا ہے ہر گھڑی، نئے رازِ زندگی استاد کا احترام، ہے ہر لمحے میں خودایہ آسمانی

پلٹ جاتی ہے کہانی، جب اس احترام میں استاد کا احترام، ہے ہر روحانی سفر کی داستانی

تعلیم کی گہرائیوں سے نکلتا ہے نہایت قیمتی سفر استاد کا احترام، ہے ہر زخموں کو بھرتا

یہ عنوان نہیں، ہے ایک رازِ تربیت کا پرچم استاد کا احترام، ہے ہر دل میں بسا ہوا چمکتا ستارہ۔

hanks for reading this Article on “ Ustad ka Ehtaram Urdu Speech ” in Written Form. If you liked reading this article or have suggestions please write it down in the comments section. Thankyou for visiting our Site !

USTAD KA ENTARAM URDU SPEECH VIDEO

12 Rabi ul Awal Urdu Speech

Urdu Speech on “CLEANLINESS”

PAKISTAN KA NIZAM E TALEEM URDU SPEECH

Urdu Speech on “motivational speech”

URDU SPEECH ON 14 AUGUST 1947

Urdu Speech on “Independence Day”

Urdu Speech on “ Importance of Time “

Urdu Speech on “ Thankyou Speech for Welcome Party ”

Very Sad Farewell Speech in Urdu PDF Written

Funny Farewell Speech in Urdu PDF Written

Emotional Farewell Speech in Urdu PDF Written

Urdu Speech on “Shaheed ki jo maut hay wo qaum ki hayat hay”

Urdu Speech on “Watan se Muhabbat”

Urdu Speech on “Hum Zinda Qaum Hain”

Urdu Speech on “Defence Day”

Urdu Speech on “ Inqilab Aayega “

Urdu Speech on “Father’s Day”

Urdu Speech on 23 March 1940

Urdu Speech on “Markaz-e-Yaqeen Pakistan”

Urdu Speech on “Khamoshi Kab Tak”

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

Related News

Waldain ki Izzat Ehtaram Essay in Urdu

Rekhta Blog

Meer aur Unke Shagird: The Ustad in Meer Taqi Meer

speech in urdu ustad ka maqam

Teacher’s day is quite a reminder as to why we should never forget what our teachers did for us. The same can be said for Urdu poetry where the tradition of Ustad and Shagird is both a legacy and a legend. Each of our favorite poets, at some point in time, reached out to their Ustads for corrections and amendments in their works, it’s a kind of unwritten law, one that is seldom read these days.

The importance of a teacher can be weighed by the following shloka of Bhagvad Gita, it’s the introductory verse where Arjuna supplicates Krishna to bestow upon him the reality of existence:

Agyantimirandhasya Gyananjana-shalakaya: Chakshurunmiilitam yain tasmai shri guruve nama:

He who shows the torch of enlightenment, to me, the ignorant, darkness-born He who opens my eyes to Truth, salutations, unto that Holy Guru

While I was planning to write this blog, I thought to myself ‘which poet should I write about?’ The answer came to me in the most bizarre ways of all, while binging upon one of Jashn-e-Rekhta’s yesteryear’s sessions on You Tube, I came across one dedicated to Allama Iqbal. Wherein, Prof. Anisur Rahman quoted a phrase remarked to him years ago by Prof. Shamim Hanafi, ‘ Ghalib bade shair hain, magar Mir, ustaad hain ’.

The comment almost instantly erased the dilemma, ‘who else but Mir, Urdu’s Khuda-e-Sukhan’, I thought. Mir had many pupils, but not as many as Mushafi, Nasir, or Insha. Partly because of his delicate temper and reserved disposition, and partly because it was quite a task for poets to get to Mir. So, the ones who’ve made it deserve genuine praise, I suppose!

Another reason why Mir’s masterfulness becomes interesting is that the islaah, or corrections made by him offer a little peak into the cerebral craftsman in him. Little changes adding many aspects to the verse, Mir’s craft as an Ustad is worthy of an academic research as well.

Let’s flash on some of Mir’s shagirds, a few anecdotes about them, and their rapport with Mir as their Ustad.

One of Mir’s earliest pupils, Parwana, born Raja Jaswant Singh, had a Persian Diwan of over 2000 couplets and the same was the case with the one in Urdu. His wit and wisdom impressed his Ustad the most.

Once he went to meet Shaikh Ali Hazin, he sent for his arrival and Hazin sent a slip with the following hemistich written in Persian:

darii.n bazm rah niist begaana ra (In this gathering, there’s no entry to a stranger)

Parwana sent his answer by adding another hemistich impromptu:

ki parwaanagi daad parwaana ra (So, grant permission, to the Parwaana)

Anyone would be impressed by such imaginativeness, let alone Mir! Coming back to Mir’s Ustad-ship, he provided correction to one of Parwaana’s famous couplets:

Kahti hai andaleeb chaman mein pukaar ke Apne bhi din bharen jo bharen din bahaar ke

The couplet originally had ‘kahti thi andalib’, Meer changed it to ‘Kahti hai’, which perhaps explains why this couplet is still calling out! Poor nightingale’s days are not over!

Rasikh Azimabadi

Shaikh Ghulam Ali Rasikh’s story of becoming Mir’s pupil is quite interesting. When he stepped into Delhi, he was a complete stranger, only a long-lost uncle of his knew him. One day, he contrived to send a couplet through his Mamu to Mir, the couplet was:

Khak hoon partaw nahin hoon chashm-e-mehr-o-maah kaa Aankh waala rasta samjhe hai ghubaar-e-raah kaa

Mir was so moved by reading this couplet that he came running out of his house and hugged him, Rasikh told Mir that he seeks his tutelage, Mir wondered that a person of such craft and learning needed no Ustad, but at the former’s earnest insisting he agreed to rectify his writings. A couplet of Rasikh which was amended by Mir:

Marte dam un ka zikr jab aaya zabaan par Neend aa gayi hamen tab usi daastaan par

Mir reframed the above verse in this way:

Ta-Khwab-e-Marg zikr tha un ka zabaan par Neend aa gayi hamein to usi daastan par

Mir handed his Divan to Rasikh and said, ‘ab yahi tumhari islaah karega’.

A Dervish who used to stroll naked in the streets, bald, barefooted, having severed all ties from the material world, this was Majnun, quite literally! His only bent was poetry, and Mir took him under his wing for his Faqirana temperament, which quite resembled Mir’s own nature. One of Majnun’s couplets in which Mir made amends:

Piya nahin qadh-e-mai ko main kabhu tujh bin Raha mudaam (hamesha) mere jaam mein lahu tujh bin

Mir did a masterly touch-up to the verse. Originally, the verse had the word ‘hamesha’ instead of ‘mudaam’, but Mir changed it to the latter, which both went better with the meter and added a bit of clever wordplay to the verse, for ‘mudaam’ also means drinking wine. Welcome, dear reader, to classical Urdu Shayari!

Mir Kallu Arsh

Born Syed Muhammad Askari, he was the son of Mir Taqi Mir, some memoirs, while comparing the father son duo unanimously assert, ‘Mir Kallu Arsh was black in complexion, short-heighted, and as meek as malnourished, it seemed as if Mir Taqi Mir well might have seen days of pleasure and delight, but the same cannot be said about his son’.

For a time, there was also this misunderstanding that Arsh was the pupil of Nasikh, but soon the air swept away. Why go to Nasikh, when you’ve got Mir at your home!

Coming back to the poetry, Arsh had the distinction of being trained and fostered by none other than Mir Taqi Mir. He sought corrections and suggestions by his father, who, certainly rectified for better:

Dil na le aye sanam bara-e-Khuda Kuchh (kih) bahalta hai isse ji mera

Mir, again quite craftily, just changed the word ‘kih’ to ‘kuchh’, both concealing and divulging the meaning at the same time, establishing his masterfulness, well, again!

To end this teacher’s day special, let’s revisit a couplet which brings out Mir’s own view of his Ustad:

mire ustaad ko firdaus-e-aala mein mile jagah padhaya kuch na ghair-az-ishq mujh ko khwurd-saali mein

Tags: Mir-Taqi-Mir , Teacher's Day , Urdu Article , Urdu Poetry

Enter your email address to follow this blog and receive notification of new posts.

  • January 2024
  • December 2023
  • November 2023
  • October 2023
  • September 2023
  • August 2023
  • February 2023
  • January 2023
  • December 2022
  • November 2022
  • October 2022
  • September 2022
  • August 2022
  • February 2022
  • January 2022
  • December 2021
  • November 2021
  • October 2021
  • September 2021
  • August 2021
  • February 2021
  • January 2021
  • December 2020
  • November 2020
  • October 2020
  • September 2020
  • August 2020
  • February 2020
  • January 2020
  • October 2019
  • September 2019
  • August 2019
  • February 2019
  • January 2019
  • December 2018
  • October 2018
  • September 2018
  • August 2018
  • February 2018

By Rajat Kumar

He is a content writer and an upcoming Urdu poet based out of Delhi.

Urdu Poetry Library

جاويد کے نام

Photo of محمد نظام الدین عثمان

جاويد  کے  نام

خودی کے ساز میں ہے عمرِ جاوداں کا سراغ خودی کے سوز سے روشن ہیں اُمتوں کے چراغ

مطلب: اس شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ اے فرزند عزیز! اس حقیقت کو پوری طرح ذہن نشین کر لے کہ خودی ہی ایسا جذبہ ہے جس کو اپنانے سے فرد کو حیات جاودانی نصیب ہو سکتی ہے اور وہ اپنے عمل سے ہمیشہ زندہ رہتا ہے ۔ یہ جذبہ خودی ہی ہے جو افراد اور قوموں کے لیے عروج و ارتقاء کی منزل فراہم کرتا ہے ۔

یہ ایک بات کہ آدم ہے صاحبِ مقصود ہزار گونہ فروغ و ہزار گونہ فراغ

معانی: فروغ: ترقی ۔ فراغ: فرصت ۔ مطلب: یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی مقصد لے کر آتا ہے ۔ یہی مقصد اسے ارتقاء کی منزل سے ہم آہنگ بھی کرتا ہے اور اطمینان قلب بھی بخشتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ ظاہری نمود و نمائش کوئی شے نہیں ۔ اصل مسئلہ وہ زندگی ہے جو بامقصد ہو ۔ یہی جذبہ فرد کو عملی جدوجہد کا حامل بناتا ہے ۔

ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ

معانی: زاغ: کوا ۔ شاہیں بچے: باز کا بچہ ۔ مطلب: اب ذرا ایک پرندے کوے کی جانب دیکھو کہ وہ ادھر اُدھر منہ مار کر بڑی عیاری اور چالاکی سے اپنا پیٹ بھرنے کے لیے دوسروں کا مال ہڑپ کر جاتا ہے ۔ لیکن خود اپنی جدوجہد کے ذریعے کبھی بھی روزی حاصل کرنے کے قابل نہ ہو سکا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں بلند پروازی مفقود ہے ۔ یہ بھی جان لو کہ اگر کسی بلند پرواز شاہیں کا بچہ کوے کی صحبت میں رہے گا تو وہ اپنی فطری صلاحیتوں سے محروم ہو کر اس کی سی عادتیں اختیار کر لے گا ۔ مراد یہ ہے کہ صحبتِ بد سے گریز کرو کہ یہ انسان کے اپنے کردار کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے ۔

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

مطلب: اس وقت کیفیت یہ ہے کہ پورے معاشرے پر نظر ڈالیں تو اس امر کا بڑی شدت کے ساتھ احساس ہوتا ہے کہ انسانوں میں غیرت و حیا کا جذبہ مفقود ہو چکا ہے ۔ کسی بھی برائی کو قبول کرتے ہوئے ان کو کسی طرح کی پشیمانی کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ سو اے بیٹے! اس صورت حال کے پیش نظر میں خدائے عزوجل سے یہی دعا کرتا ہوں کہ تجھ میں غیرت و حیا کا جذبہ برقرار رہے اور تیرا شباب ہمیشہ داغ دار ہونے سے بچا رہے ۔

ٹھہر سکا نہ کسی خانقاہ میں اقبال کہ ہے ظریف و خوش اندیشہ و شگفتہ دماغ

معانی: ظریف: خوش مذاق، اچھا سوچنے والا، دماغ میں بھی شگفتگی ہے ۔ مطلب: آخری شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ جہاں تک میری زندگی اور کردار کا تعلق ہے اس امر سے واضح ہو جائے گا کہ میں ایک خوش طبع، خوش اخلاق اور خوش ہونے کے سبب ان خانقاہوں کے قریب تک نہ پھٹک سکا جو تنگ ظرف، خشک طبع اور مفسد ملاؤں کی کمین گاہیں بنی ہوئی ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ نوجوانوں کو جہاں رند مشرب لوگوں کی صحبتوں سے گریز کرنا چاہیے وہاں متذکرہ قسم کی خانقاہوں سے احتزاز بھی لازم ہے کہ ہر دو مقامات کا ماحول غیرت و حیا سے عاری ہو چکا ہے اور نوجوان نسل کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے ۔

—————————-

Transliteration

Javed Ke Naam

(London Mein Uss Ke Hath Ka Likha Huwa Pehla Khat Ane Par)

Diyar-e-Ishq Mein Apna Maqam Paida Kar Naya Zamana, Naye Subah-o-Sham Paida Kar

Khuda Agar Dil-e-Fitrat Shanas De Tujh Ko Sakoot-e-Lala-o-Gul Se Kalaam Paida Kar

Utha Na Sheesha Garan-e-Farang Ke Ehsan Sifal-e-Hind Se Meena-o-Jaam Paida Kar

Main Shakh-e-Taak Hun, Meri Ghazal Hai Mera Samar Mere  Samar Se Mai-e-Lala Faam Paida Kar

Mera Tareeq Ameeri Nahin, Faqeeri Hai Khudi Na Baich, Ghareebi Mein Naam Paida Kar!

————————–

(On receiving his first letter in London)

Build in love’s empire your hearth and your home; Build Time anew, a new dawn, a new eve!

Your speech, if God give you the friendship of Nature, From the rose and tulip’s long silence weave.

No gifts of the Franks’ clever glass‐bowers ask! From India’s own clay mould your cup and your flask.

My songs are the grapes on the spray of my vine; Distil from their clusters the poppy‐red wine!

The way of the hermit, not fortune, is mine; Sell not your soul! In a beggar’s rags shine.

Photo of محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

Related articles.

سياست

ہارون کی آخری نصيحت

قطعہ- فطرت مري مانند نسيم سحري ہے

قطعہ- فطرت مري مانند نسيم سحري ہے

جواب دیں جواب منسوخ کریں.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

IMAGES

  1. Beautiful Speech || ustad ka muqam ||urdu taqreer ||

    speech in urdu ustad ka maqam

  2. ustad ka maqam mazmoon|| ustad ka maqam in urdu speech || teacher day speech in urdu ||

    speech in urdu ustad ka maqam

  3. Ustad Ka Muqam || Beautiful Speech at FTH Skills || Urdu taqreer ||

    speech in urdu ustad ka maqam

  4. Ustad Ka Ehtram Speech in Urdu

    speech in urdu ustad ka maqam

  5. Beautiful Urdu Speech || Ustad Ka Maqam || Urdu Taqreer |Little

    speech in urdu ustad ka maqam

  6. Ustad ka Muqam Essay in Urdu || ustad ka muqam mazmoon || Urdu ustad ka

    speech in urdu ustad ka maqam

VIDEO

  1. Ustad ka muqam o martaba

  2. Islam Mein aurat ka Maqam by Dr Zakir Naik || Letest Updates 2018

  3. Urdu Best Speech Ever

  4. Beautiful Speech || ustad ka muqam ||urdu taqreer ||

  5. Ustad Ka Muqam || Beautiful Speech at FTH Skills || Urdu taqreer ||

  6. Ustad ka maqam speech-Annual Co-Curricular Gala 2022

COMMENTS

  1. Beautiful Speech || ustad ka muqam ||urdu taqreer ||

    Beautiful Speech || ustad ka muqam ||urdu taqreer || The Excel Science Academy is free online lecture platform for the students of matric and intermediate to...

  2. Beautiful Urdu Speech || Ustad Ka Maqam || Urdu Taqreer |Little

    Beautiful Urdu Speech || Ustad Ka Maqam || Urdu Taqreer #teacherDaySpeech #little #scholar #pakistanspeaks #pakistanzindabad #poetry #fatima #speechforsucces...

  3. Ustad Ka Muqam || Beautiful Speech at FTH Skills || Urdu taqreer

    Ustad Ka Muqam || Beautiful Speech at FTH SkillsCreated by InShot:https://inshotapp.page.link/YTShareThe Excel Science Academy is free online lecture platfor...

  4. Essay on Ehtram e Ustad in Urdu

    Essay on Culture of Pakistan In Urdu. Essay on Ehtram e Ustad in Urdu- In this article we are going to read Essay on Ehtram e Ustad in Urdu | استاد کا احترام پر مضمون, ustad par mazmoon urdu mein, mera pasandida ustad in urdu, my favourite teacher essay in urdu language, دنیا میں بہت سارے رشتے ہوتے ...

  5. Speech On Ustad ka Ehtram in urdu

    ارشادِ گرامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ اجازت چاہوں گا. ولسلام! شکریہ. Speech On Ustad ka Ehtram in urdu- In this post we are going to write a free speech on USTAD KA EHTRAM for school and college students in urdu language,, Speech On Ustad ka Ehtram in urdu, topic ustad ka ...

  6. Ustad Ka Muqam

    ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔. Read Urdu column Ustad Ka Muqam استاد کا مقام‎ by famous column writer Hira Ajmal - Read latest articles, columns written by حرا اجمل and analysis written by top Urdu writers from Pakistan.

  7. Ustad Ka Maqam

    Ustad Ba Muqabla Dengue By Rehmat Aziz Khan Kho Gaye Hain Hum Sawalon Mein By Saadia Bashir; Home / Ali Ahmad Dhillon / Ustad Ka Maqam. Ustad Ka Maqam. Ali Ahmad Dhillon Jul 28, 2021 Express 526

  8. Islami Muashre Main Ustaad Ka Muqaam

    6 Kalma Hajj Ayat ul Kursi Tarawih laylat ul Qadr Itikaf Muharram Sadaqah Zakat Fitrana Dua e Qunoot Tahajjud. Islami Muashre Main Ustaad Ka Muqaam in Urdu (Article No. 357). Read Islamic articles about اسلامی معاشرہ میں استاد کا مقام and other important Islamic articles about Quran, Hadees, Namaz, Ramadan and more.

  9. ustad ka ehtram essay in urdu with headings

    In Islam, teachers are given a special status. The word ' ustad ' (teacher) is derived from the Arabic word 'ustadh', which means 'one who gives. The word 'ustadh' is also used to refer to a highly qualified scholar or authority on a particular subject. As Muslims, we are taught to give respect to our teachers and elders.

  10. Islam Me Aurat Ka Maqam

    The High Rank of Women In Islam. Language: Urdu | English | Bengali : Author: Al Madinat-ul-Ilmiyah: Publisher: Others: Total Pages: 32: More

  11. Best Urdu Speeches In Written Form

    Best Urdu Speeches-In This course we are going to write 250+ speeches for urdu students in pakistan and all over the world, Read Best Urdu Speeches in urdu language, best urdu speeches in written form, school speech topics in urdu, urdu debate topics for students, emotional speech in urdu written 2020, ... Speech On Ustad ka Ehtram in urdu. 0 ...

  12. ustad ka maqam mazmoon|| ustad ka maqam in urdu speech

    ustad ka maqam mazmoon|| ustad ka maqam in urdu speech || teacher day speech in urdu ||Teacher's Day lyoume asatezal mazmun #All2learn #teacherday #essay #M...

  13. Teacher's day speech in urdu

    Teachers day speech in urdu | Urdu speech on teachers day | Teachers day speech in urdu writing | Teachers day speech in urdu language #speechonteachersdayin...

  14. Islam Main Waldain Ka Maqam

    Important Islamic Info. Islam Main Waldain Ka Maqam in Urdu (Article No. 3201). Read Islamic articles about اسلام میں والدین کا مقام…تحریر:رانا اعجاز حسین چوہان and other important Islamic articles about Quran, Hadees, Namaz, Ramadan and more. Read Urdu Islamic books and download Islamic material in ...

  15. Ustad ka Ehtram Essay

    Urdu Speeches; Urdu Applications; Moral Stories; Urdu Poetry. Urdu Poetry With Tashreeh; Mirza Ghalib poetry; Allama Iqbal Poetry; Other Poets Poetry; Urdu Quiz. ... Ustad ka Ehtram Essay- In this post you are going to read an essay on Ehtram e ustad in urdu language, ustad ka ehtram topic, mazmoon on ustad ka ehtram, Skip to ...

  16. Urdu Speech on Teacher Respect

    Urdu Speech on Teacher Respect | Ustad Ka Ehtram Speech. Posted in Urdu Speeches on March 15, 2022 by Shoaib Share 0. Tweet 0. Share 0. Pin 0. ...

  17. Dayar-e-Ishq Mein Apna Muqam Paida Kar Allama Iqbal Lyrics In Urdu And

    Dayar-e-Ishq Mein Apna Muqam Paida Kar Allama Iqbal Lyrics In Urdu and Roman Urdu Allama Iqbal Poetry, Ghazal Lyrics, Lyrics In Urdu, Ustad Nusrat Fateh Ali

  18. Ustad Ka Muashre Main Kirdar

    آمین ثم آمین!! Read Urdu column Ustad Ka Muashre Main Kirdar ‏استاد کا معاشرے میں کردار by famous column writer Dr Hamza Siddiqui - Read latest articles, columns written by ڈاکٹر حمزہ صدیقی and analysis written by top Urdu writers from Pakistan.

  19. Ustad ka Ehtram

    Ustad ka Ehtram Share this: Click to share on Twitter (Opens in new window) Click to share on Pinterest (Opens in new window) ... Haqooq, Haqooq Ul Ibad, Mualim, Ustad, Waldain; Urdu; Related posts. Mian Biwi Kay Haqooq. Apnay Nafs, Biwi, Bachon, Aur Mahman Kay Haqooq. Leave a ReplyCancel reply. Subscribe via Email. Enter your email address to ...

  20. Ustad ka Ehtaram Speech in Urdu

    Ustad ka Ehtaram Speech in Urdu in Written Form. Assalam-o-Alaikum Friends. This Article contains Speech on " Ustad ka ehtaram Speech in Urdu " 2024 in Written Form. You can read the article and copy it as well. We have updated the PDF and the Video of this script at the end.

  21. Meer aur Unke Shagird: The Ustad in Meer Taqi Meer

    Raha mudaam (hamesha) mere jaam mein lahu tujh bin. Mir did a masterly touch-up to the verse. Originally, the verse had the word 'hamesha' instead of 'mudaam', but Mir changed it to the latter, which both went better with the meter and added a bit of clever wordplay to the verse, for 'mudaam' also means drinking wine.

  22. Urdu Speech Ustad ka Maqam || اردو تقریر استاد کا مقام

    استاد کا مقامUstad ka maqam Urdu Speech Farhan NaeemVSS The Villagers School SystemRehmat Campus BaharwalKashmir Campus Kote JamelBarnala Campus

  23. Diyar-e-Ishq Mein Apna Maqam Paida Kar

    (London Mein Uss Ke Hath Ka Likha Huwa Pehla Khat Ane Par) Diyar-e-Ishq Mein Apna Maqam Paida Kar Naya Zamana, Naye Subah-o-Sham Paida Kar. Khuda Agar Dil-e-Fitrat Shanas De Tujh Ko Sakoot-e-Lala-o-Gul Se Kalaam Paida Kar. Utha Na Sheesha Garan-e-Farang Ke Ehsan Sifal-e-Hind Se Meena-o-Jaam Paida Kar. Main Shakh-e-Taak Hun, Meri Ghazal Hai Mera ...